Monday, 17 July 2017

عقیقہ کے فضائل ومسائل :بشکریہ جامعہ دارالعلوم کراچی ناقل مفتی رضوان اللہ حقانی

((عقیقہ کے فضائل ومسائل :بشکریہ جامعہ دارالعلوم کراچی ناقل مفتی رضوان اللہ حقانی))
سوال:
عقیقہ کی فضیلت ، دن ،گوشت کی تقسیم ، بکروں کی کھال کا کیا کیا جائے گا ؟
جواب :
عقیقہ کے لغوی معنی کاٹنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں نومولود بچہ / بچی کی جانب سے اس کی پیدائش کے ساتویں دن جو خون بہایا جاتاہے اسے عقیقہ کہتے ہیں۔ عقیقہ کرنا سنت ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
اس کے چند اہم فوائد یہ ہیں:
٭... زندگی کی ابتدائی سانسوں میں نومولود بچہ ، بچی کے نام سے خون بہاکر اللہ تعالیٰ سے اس کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔
٭... یہ اسلامی Vaccination ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعض پریشانیوں، آفتوں اور بیماریوں سے راحت مل جاتی ہے۔ (ہمیں دنیاوی Vaccinations کے ساتھ اس Vaccination کا بھی اہتمام کرنا چاہئے)۔
٭... بچہ، بچی کی پیدائش پر جو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، خوشی کا اظہار ہوجاتا ہے۔
٭... بچہ / بچی کا عقیقہ کرنے پر کل قیامت کے دن باپ بچہ / بچی کی شفاعت کا مستحق بن جائے گا، جیسا کہ حدیث نمبر2 میں ہے۔
٭... عقیقہ کی دعوت سے رشتے دار، دوست واحباب اور دیگر متعلقین کے درمیان تعلق بڑھتا ہے، جس سے ان کے درمیان محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔
عقیقہ کے متعلق چند احادیث
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچہ / بچی کے لیے عقیقہ ہے، اس کی جانب سے تم خون بہاوٴ اور اس سے گندگی (سر کے بال) کو دور کرو ۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ / بچی اپنا عقیقہ ہونے تک گروی ہے۔ اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس دن اس کا نام رکھا جائے اور سرمنڈوایا جائے۔ (ترمذی، ابن ماجہ ، نسائی، مسند احمد)۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان : ”کل غلام مرتہن بعقیقتہ“ کی شرح علماء نے بیان کی ہے کہ کل قیامت کے دن بچہ، بچی کو باپ کے لیے شفاعت کرنے سے روک دیا جائے گا، اگر باپ نے استطاعت کے باوجود بچہ / بچی کا عقیقہ نہیں کیاہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حتی الامکان بچہ / بچی کا عقیقہ کرنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی جانب سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ہے (ترمذی ،مسند احمد)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لڑکے کی جانب سے دو بکرے اور لڑکی کی جانب سے ایک بکرا ہے ۔ عقیقہ کے جانور مذکر ہوں یا موٴنث ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی بکرا یا بکری جو چاہیں ذبح کردیں۔ (ترمذی ،مسند احمد)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن  اور حضرت حسین  کا عقیقہ ساتویں دن کیا، اسی دن ان کانام رکھا اور حکم دیا کہ ان کے سروں کے بال مونڈھ دیے جائیں ۔ (ابو داوٴد)۔
ان مذکورہ ودیگر احادیث کی روشنی میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بچہ /بچی کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا، بال منڈوانا، نام رکھنا اورختنہ کرانا سنت ہے۔ لہٰذا باپ کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ اپنے نومولود بچہ /بچی کا عقیقہ کرسکتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اس سنت کو ضرور زندہ کرے تاکہ عند اللہ اجرعظیم کا مستحق بنے، نومولود بچہ ،بچی کو اللہ کے حکم سے بعض آفتوں اور بیماریوں سے راحت مل سکے، نیز کل قیامت کے دن بچہ / بچی کی شفاعت کا مستحق بن سکے۔
کیا ساتویں دن عقیقہ کرنا شرط ہے؟
عقیقہ کرنے کے لیے ساتویں دن کا اختیار کرنا مستحب ہے۔ ساتویں دن کو اختیار کرنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ زمانہ کے ساتوں دن بچہ / بچی پر گزر جاتے ہیں۔ لیکن اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو توساتویں دن کی رعایت کرتے ہوئے چودھویں یا اکیسویں دن کرنا چاہیے، جیسا کہ حضرت عائشہ  کا فرمان احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ اگر کوئی شخص ساتویں دن کے بجائے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں دن یا اس کے بعد کبھی بھی عقیقہ کرے تو یقینا عقیقہ کی سنت ادا ہوجائے گی، اس کے فوائد ان شاء اللہ حاصل ہوجائیں گے، اگرچہ عقیقہ کا مستحب وقت چھوٹ گیا۔
کیا بچہ / بچی کے عقیقہ میں کوئی فرق ہے؟
بچہ / بچی دونوں کا عقیقہ کرنا سنت ہے، البتہ احادیث کی روشنی میں صرف ایک فرق ہے ،وہ یہ ہے کہ بچہ کے عقیقہ کے لیے دو اور بچی کے عقیقہ کے لیے ایک بکرا / بکری ضروری ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس بچہ کے عقیقہ کے لیے دو بکرے ذبح کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو وہ ایک بکراسے بھی عقیقہ کرسکتا ہے ، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس  کی روایت ابوداوٴد میں موجود ہے۔
بچہ / بچی کے عقیقہ میں فرق کیوں رکھا گیا؟
اسلام نے عورتوں کومعاشرہ میں ایک ایسا اہم اور باوقار مقام دیا ہے جو کسی بھی سماوی یا خود ساختہ مذہب میں نہیں ملتا ، لیکن پھر بھی قرآن کی آیات: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَة﴾ (سورہ البقرة 238) ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ﴾ (سورة النساء 34) واحادیث شریفہ کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے مردوں کو عورتوں پر کسی درجہ میں فوقیت دی ہے،جیسا کہ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک ہر قوم میں اور ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثلاً حمل وولادت کی تمام تر تکلیفیں اور مصیبتیں صرف عورت ہی جھیلتی ہے۔ لہٰذاشریعت اسلامیہ نے بچہ کے عقیقہ کے لیے دو اور بچی کے عقیقہ کے لیے ایک خون بہانے کا جو حکم دیا ہے ، اس کی حقیقت خالق کائنات ہی بہتر جانتا ہے۔
عقیقہ میں بکرا، بکری کے علاوہ دیگر جانور مثلاً اونٹ گائے وغیرہ کو ذبح کیا جاسکتا ہے؟
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے ، مگر تحقیقی بات یہ ہے کہ حدیث نمبر ( اور) کی روشنی میں بکرا/ بکری کے علاوہ اونٹ گائے کو بھی عقیقہ میں ذبح کرسکتے ہیں، کیوں کہ اس حدیث میں عقیقہ میں خون بہانے کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بکرا ،بکری کی کوئی شرط نہیں رکھی،لہٰذااونٹ گائے کی قربانی دے کر بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے ۔ نیز عقیقہ کے جانور کی عمر وغیرہ کے لیے تمام علماء نے عیدالاضحی کی قربانی کے جانور کے شرائط تسلیم کیے ہیں۔
کیا اونٹ گائے وغیرہ کے حصہ میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے؟
اگر کوئی شخص اپنے دو لڑکوں اور دو لڑکیوں کا عقیقہ ایک گائے کی قربانی میں کرنا چاہے، یعنی قربانی کی طرح حصوں میں عقیقہ کرنا چاہے ، تو اس کے جواز سے متعلق علماء کا اختلاف ہے، ہمارے علماء نے قربانی پر قیاس کرکے اس کی اجازت دی ہے، البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ اس طریقہ پر عقیقہ نہ کیا جائے، بلکہ ہر بچہ / بچی کی طرف سے کم از کم ایک خون بہایا جائے۔
کیا عقیقہ کے گوشت کی ہڈیاں توڑکر کھا سکتے ہیں؟
بعض احادیث اور تابعین کے اقوال کی روشنی میں بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ عقیقہ کے گوشت کے احترام کے لیے جانور کی ہڈیاں جوڑوں ہی سے کاٹ کر الگ کرنی چاہییں۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے اس موضوع سے متعلق کوئی ایسا اصول وضابطہ نہیں بنایا ہے کہ جس کے خلاف عمل نہیں کیا جاسکتاہے ، کیوں کہ یہ احادیث اور تابعین کے اقوال بہتر وافضل عمل کو ذکر کرنے کے متعلق ہیں۔ لہذا اگر آپ ہڈیاں توڑکر بھی گوشت بناکر کھانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ یاد رکھیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں عموماً گوشت چھوٹا چھوٹا کرکے یعنی ہڈیاں توڑکر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
کیا بالغ مرد وعورت کا بھی عقیقہ جا سکتا ہے؟
جس شخص کا عقیقہ بچپن میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ عموماً ہندوستان اور پاکستان میں عقیقہ چھوڑکر چھٹی وغیرہ کرنے کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے، جوکہ غلط ہے۔ لیکن اب بڑی عمر میں اس کا شعور ہورہا ہے، تو وہ یقینا اپنا عقیقہ کرسکتا ہے، کیوں کہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے نبوت ملنے کے بعد اپنا عقیقہ کیا ۔ (اخرجہ ابن حزم فی ”المحلّی“، والطحاوی فی ”المشکل“)․
نیز احادیث میں کسی بھی جگہ عقیقہ کرنے کے آخری وقت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بڑی بچی کے سرکے بال منڈوانا جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں بال نہ کٹوائیں،کیوں کہ بال کٹوائے بغیر بھی عقیقہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔
دیگر مسائل
٭... قربانی کے جانور کی طرح عقیقہ کے جانور کی کھال یا تو غرباء ومساکین کو دے دیں یا اپنے گھریلو استعمال میں لے لیں۔
٭... کھال کو فروخت کرکے اس کی قیمت قصائی کو بطور اجرت دینا جائز نہیں ہے۔
٭... قربانی کے گوشت کی طرح عقیقہ کے گوشت کو خود بھی کھاسکتے ہیں اور رشتہ داروں کو بھی کھلاسکتے ہیں۔ اگر قربانی کے گوشت کے3 حصے کرلیے جائیں تو بہتر ہے: ایک اپنے لیے ، ایک رشتے داروں کے لیے اور تیسرا حصہ غریبوں کے لیے، لیکن یہ تین حصے کرنا کوئی ضروری نہیں ہے۔
٭... عقیقہ کے گوشت کو پکاکر رشتے داروں کو بلاکر بھی کھلاسکتے ہیں اور کچا گوشت بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔

﴿نوٹ﴾: اگر بچہ / بچی کی پیدائش جمعہ کے روز ہوئی ہے تو ساتواں دن جمعرات ہوگا۔
واللہ اعلم با الصواب

No comments:

Post a Comment