Saturday, 9 April 2016

بھیک مانگنا: مفتی تنویر احمد ڈھرنال

بھیک مانگنا

مفتی تنویر احمد ڈھرنال
بھیک مانگنا،لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا،غیرت وحمیت کے خلاف ہے اس سے خود داری ختم ہو جاتی ہے انسان کاہل اورکام چور ہو جاتا ہے سب کی نگاہوں میں حقیر ہو جاتا ہے۔خوشامد کر کے مانگتا ہے کوئی دیتا ہے اور کوئی نہیں دیتا ،کوئی خوشی سے دیتا ہے اور کوئی منہ بگاڑ کر ،کوئی نرمی سے کوئی جھڑک کر انکاردیتا ہے،یہ سب کچھ اس کو سہنا پڑتا ہے کیونکہ اس کا ہاتھ مانگنے والا ہے اور مانگنے والا ہاتھ نیچے ہوتا ہے اس کو نیچا برداشت کرنا پڑتا ہے اور دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور اوپر والا اونچا مانا جاتا ہے جیسا کہ حضور سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے کہ” اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نچلا ہاتھ مانگنے والا ہے“ ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ مانگنے کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں باوجودیکہ گھر بھرا ہو ا ہوتا ہے ،کسی چیزکی ضرورت نہیں ہوتی ،اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہوتا ہے،جسم تندرست و توانا ہوتا ہے ہاتھ پاوں میں کمانے کی طاقت بھی ہوتی ہے مگر بھیک مانگنے کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر ،عزت نفس کو بیچ کر ،ڈانٹ ڈپٹ سن کر ،جھڑکیا ں برداشت کر کے،جھوٹے سچے بہانے بنا کر ،روپ بدل کر ،خود کو بیمار اور اپاہج ظاہر کر کے بھیک مانگنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بعض بھیک مانگنے والے یہ کہنے سے بھی نہیں کتراتے کہ ہم کیوں نہ مانگیں ،یہی ہمارا پیشہ ہے ،یہی ہماری روزی ہے،مانگنا ہمارا پیدائشی اور خاندانی حق ہے حالانکہ بھیک مانگنے کا تعلق کسی ذات برادری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ضرورت اور حاجت سے ہے بغیر ضرورت کے جو مانگے گا وہ مانگ مانگ کر جہنم کی آگ اکٹھا کر ے گا جیسا کی نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”جس نے لوگوں سے ان کا مال مانگااپنے مال کو زیادہ کرنے کی غرض سے ،تو وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے،پس چاہے کم مانگے یا زیادہ“حجة الوداع کے موقع پر آپ ﷺ صدقہ کی تقسیم کر رہے تھے تو دو صحت مندشخصوںنے مانگا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس میں کسی مالدار اور کمانے کے لائق کے لئے کوئی حصہ نہیں،ایک روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے سوال کیا اور اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ جو اس کو غنی کر دے تو وہ اس سوال کے ذریعے جہنم کی آگ کی زیادتی طلب کر رہا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ غنی ہونے کی حد کیاہے کہ جس کے ہونے سے سوال کرنا جائز نہیں؟تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”اس قدر جو اس کے لئے صبح وشام کی غذا کا کام دے سکے “(ابو داود)مانگنا صرف ایسے شخص کے لئے جائز ہے جو حقیقت میں کنگا ل اور فقیر ہو یا سخت پریشان حال مقروض ہواور جو لوگ ان حالات کے بغیر مانگتے رہتے ہیںان کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہو گی سارا چہرہ زخموں سے بھرا ہو ا ہو گا(بخاری ومسلم)بہر حال لالچ کے ساتھ مال لینا بے برکتی پیدا کرتا ہے ،محتاج سمجھ کر خود کوئی دے دے اس میں برکت ہوتی ہے جو آدمی لوگوں کے مال سے بے نیاز اور لاپرواہ ہوتا ہے اس کو اللہ تعالی حقیقی غنا اور فراخی عطا کرتے ہیںکتنے افسوس کی بات ہے کہ جس دین نے بھیک مانگنے سے سب سے زیادہ منع کیا اور محنت سے کمانے کو فرض اورہاتھ سے کمانےوالے کو اللہ کا دوست قرار دیا اسی دین کے نام لیواوں میں بھکاریوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے ،ہر چوراہے،گلی کوچے ،فٹ پاتھوں ،اڈوں اورمسجد کی سیڑھیوں اور دروازوںپر بھیک مانگنے والوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے ،ایسے حالات میںہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم ان بھکاریوں کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دیں، ان کی مدد کر کے انہیں روزی روٹی خود سے کمانے پرلگادیں۔پیشہ ور فقیروں،برادری کے نام پر مانگنے والوں اور ایسے لوگوں کو بھیک ہر گز نہ دیں جو تندرست و توانا ہوں،کمانے کھانے کے لائق ہوں،گھر بھرا ہوا ہو،کسی طرح کی محتاجگی نہ ہو کیونکہ ایسے لوگ اصل حقداروں کے مال پر بھی ڈاکہ ڈالتے ہیں۔اس لئے تھوڑی کوشش اور محنت کر کے ان لوگوں کوڈھونڈ کر صدقات وغیرہ دینا چاہیے جو سفید پوش ہیں باوجود غریب وفقیر ہونے کے ،کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تا کہ بھیک مانگنے کی حوصلی شکنی ہو اور اصل حق دار تک اس کا حق پہنچ جائے

رزق حلال اختیا ر کریں: مفتی تنویراحمدڈھرنال

رزق حلال اختیا ر کریں

تحریر: مفتی تنویراحمدڈھرنال

کتاب وسنت میں رزق حلال اختیارکرنے اور پاکیزہ غذا کھانے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ غذا کا اثرانسان کے دل ودماغ پر پڑتا ہے غذاکااثر انسان کے جذبات وخیالات اور اعمال وافعال پر بھی پڑتا ہے ،اگر غذاحرام اورناپاک ہوگی تودل سیاہ اور سخت ہوجائے گا،حق کو قبول کرنے کی استعداد ختم ہو جائے گی ،دماغ میں ناپاک خیالات پرورش پائیں گے ،نیک اعمال کرنے کی توفیق سلب ہو جائے گی،نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان معلوم ہو گا۔اولاد نافرمان ہو جائے گی ۔حرام کی روزی وہ آگ ہے جو فکر کی چربی کو پگھلا دیتی ہے اور اگر رزقِ حلال اختیار کیا جائے تو اس سے دل میں نرمی ،اللہ کا خوف اور ہدایت کا نور پیدا ہوتا ہے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب ہو تی ہے اولاد فرمانبردار اور نیک ہوتی ہے ،جوشخص چالیس روز رزق حلال کھائے جس میںذرہ بھربھی حرام کی آمیزش نہ ہوتواللہ تعالی اس کے دل کومنور کر دیتا ہے اور اس کی زبان سے حکمت کی چشمے جاری ہوتی ہیںاور اپنے اہل وعیال کے لئے حلال روزی تلاش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہو تا ہے اور اس کا صلہ اس دنیا میں نقد ملتا ہے۔ رزق حلال کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کی طلب کو فرض قرار دیا ہے ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺنے فرماےانمازروزہ جیسے فرائض کے بعد کسب حلال کا طلب کرنا بھی فرض ہے “جہاں حضورﷺ نے رزق حلال کی طلب کو فرض اور اس کی نورانیت اور برکات بیان فرمائیں ہیں وہاں آپ ﷺ نے حرام روزی سے بچنے کی تلقین بھی کی ہے اور اس کی نحوست اور مکروہ اثرات بیان فرمائے ہیںکہ حرام کھانے والا ایسا بدبخت اور بدنصیب ہے کہ اس کی نہ نماز قبول ہے اور نہ نیک اعمال اور نہ صدقہ و خیرات اور نہ دعائیں، جیسا کہ سرکار دوعالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو حرام کاایک لقمہ بھی کھائے گا اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہ ہوگی،اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اوراس میں ایک درہم حرام کا ہو تو اللہ تعالی اس کی کوئی نماز قبول نہ فرمائیں گے جب تک وہ کپڑا اس کے اوپر رہے گاجو بھی حرام لقمہ اپنے پیٹ میں ڈال لیتا ہے تو اس کے چالیس دنوں کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا“حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جس کا کھانا حرام ،لباس حرام،اورغذا حرام ہو تو ان کی وجہ اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے ؟جو شخص ما ل گناہ سے کماتا ہے پھر اسے عزیزوں کی مدد یا صدقے کرتا ہے یا خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس سب کو قیامت کے دن جمع کیا جاے گا اور اس کے ساتھ جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔اور رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں وہ جسم نہیں جائے گا جس نے حرام غذا سے پرورش پائی “ حضرت یحیٰی بن معاذ ؒ فرماتے ہیں روپیہ پیسہ بچھو ہیں اگر تمھیں اس کے کاٹے کا منتر نہ آتا ہو تو اسے ہاتھ نہ لگاﺅ ،اگر اس نے تجھے ڈنگ مار دیا تو اس کا زہر تجھے ہلاک کر دے گا ،پوچھا گیااس کا منتر کیا ہے تو فرمایا حلال کمانااور جائز کام میں خرچ کرنا۔ حضرت سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں” میں ایک آیت پڑھتا تھا تو میرے سامنے علم کے ستر دروازے کھول دیے جاتے تھے جب سے میں ان امراءکے مال کھانے لگا ہوں اب ایک آیت پڑھتا ہوں تو ایک دروازہ بھی نہیں کھلتا“ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم ان ارشادات کو پڑھ کر آج سے عہد کریں کہ ہم رزق حلال کا راستہ اختیا کریں گے اور رزق حرام کے قریب بھی نہ جائیں گے ،ہم بھوکا رہنا گوارا کر لیں گے لیکن حرام روزی نہیں چکھیں گے جیسے علامہ اقبال مرحوم کیا خوبصورت بات کہہ گئے کہ
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
اگر انسان اس فکر کے ساتھ زندگی گزارے کہ کوئی پیسہ اس کے مال کے اندر ناحق شامل نہ ہو تو یقین رکھئے پھر اگر ساری عمر نوافل نہ پڑھے اور ذکر وتسبیح نہ کرے لیکن اپنے آپ کو حرام سے بچا کر قبر تک لے گیا تو انشاءاللہ سیدھا جنت میں جائے گا اور اگر حلال وحرام کی فکر نہ کی مگر تہجد ،اشراق،چاشت کی نماز پڑھ رہا ہے اور ذکروتسبیح بھی خوب کرتا ہے تو یاد رکھے کہ یہ چیزیں اس کو حرام مال کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گی ۔اللہ رب العزت ہم کو رزق حلال نصیب فرمائے اور حرام سے ہم سب کی حفاظت فرمائے(آمین)